About the publication

ڈیجی نامہ

A digital home for Urdu digests

ڈیجی نامہ

میں کشف ذوالفقار، ڈیجی نامہ کی بانی ہوں۔

ایک وقت تھا جب اردو ڈائجسٹ صرف رسالے نہیں ہوا کرتے تھے۔ وہ گھروں کا حصہ تھے۔ کسی گھر میں نیا شمارہ آتا تو اسے فوراً پڑھنے کے لیے اٹھا لیا جاتا، کبھی کسی کے آنے کا انتظار ہوتا، کبھی رات کو سب کے سو جانے کا۔ کہانیاں ہماری روزمرہ زندگی میں اس طرح شامل تھیں کہ ان کے کردار اجنبی نہیں لگتے تھے۔ ہم ان کے دکھ پر اداس ہوتے، ان کی خوشیوں میں خوش ہوتے اور اگلی قسط کے لیے بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔

پھر وقت بدل گیا۔

ہماری پڑھنے کی عادتیں بدلیں، دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہوئی اور کتابوں سے لے کر اخبارات اور رسائل تک، بہت کچھ ہماری اسکرینوں پر منتقل ہو گیا۔ لیکن اردو کہانی کے ساتھ یہ تبدیلی اس رفتار سے نہیں آئی جس کی ہم توقع کر سکتے تھے۔

یہی خیال میرے ذہن میں بار بار آتا رہا کہ اگر آج کا قاری اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر دنیا بھر کا مواد چند لمحوں میں پڑھ سکتا ہے تو اردو کہانی کے لیے بھی ایسی جگہ کیوں نہ ہو جو اسی دور کی ہو؟

ڈیجی نامہ اسی سوال کا جواب ہے۔

ڈیجی نامہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو اردو کہانی اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک تعلق قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ہمارا مقصد صرف پرانے ڈائجسٹ کو ایک نئی شکل دینا نہیں، بلکہ اردو فکشن کے لیے ایک ایسی جگہ بنانا ہے جو آج کے قاری اور آج کے لکھنے والے دونوں سے متعلق ہو۔

یہاں نئے لکھنے والوں کے لیے اپنی تخلیقات پیش کرنے کی گنجائش ہے، اور قارئین کے لیے نئی آوازوں، نئے خیالات اور مختلف انداز کی کہانیوں سے واقف ہونے کا موقع۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہر اچھی کہانی کے پیچھے صرف ایک خیال نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کسی لکھنے والے کے کئی دن، کئی راتیں، بہت سے کاغذ، بہت سی بار مٹائے گئے جملے اور وہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اسے پڑھے اور اس دنیا کا حصہ بنے جو اس نے اپنے لفظوں سے تخلیق کی ہے۔

اسی لیے ڈیجی نامہ میں لکھنے والے اور قاری، دونوں ہمارے لیے اہم ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ایک نیا لکھنے والا اپنی پہلی کہانی شائع کرتے ہوئے یہ محسوس نہ کرے کہ اسے اپنی آواز سنانے کے لیے کسی بڑے نام کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اور ایک قاری جب کسی نئی کہانی پر کلک کرے تو اسے صرف ایک متن نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریر ملے جس میں رکنے، سوچنے اور آگے پڑھنے کی وجہ موجود ہو۔

اردو ادب کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ اس میں روایت اور جدت ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ ایک طرف وہ زبان ہے جس کے ساتھ کئی نسلوں کی یادیں، کتابیں اور ڈائجسٹ وابستہ ہیں، اور دوسری طرف ایک نئی نسل ہے جو اسی زبان کو موبائل، کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کی دنیا میں پڑھ رہی ہے۔

ڈیجی نامہ انہی دونوں کے درمیان ایک پل بننا چاہتا ہے۔

ہم اردو کہانی کو ماضی میں محفوظ رکھنا نہیں چاہتے۔ ہم اسے حال میں زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایسی کہانیاں جو آج کے انسان کے سوالات سے بات کریں۔ ایسے کردار جو صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہ رہیں بلکہ قاری کو اپنے اردگرد دکھائی دیں۔ ایسے نئے لکھنے والے جو اپنی زبان میں اپنی بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اور ایسے قارئین جو اب بھی ایک اچھی کہانی کے لیے وقت نکالتے ہیں۔

ڈیجی نامہ کا سفر ابھی آغاز ہے۔ اس سفر میں بہت کچھ سیکھنا، بہتر کرنا اور بنانا باقی ہے۔ لیکن بنیادی خیال بہت سادہ ہے:

اردو کہانی کو ایک ایسی جگہ ملنی چاہیے جو اس کے ماضی کی خوبصورتی کو بھی سمجھے اور اس کے مستقبل کے امکانات کو بھی۔

اگر آپ لکھتے ہیں، تو شاید ڈیجی نامہ آپ کی کہانی کے لیے وہ جگہ بن سکے جس کی آپ تلاش میں تھے۔

اگر آپ پڑھتے ہیں، تو شاید یہاں آپ کو وہ کہانی مل جائے جسے پڑھ کر آپ کچھ دیر کے لیے اپنی دنیا سے نکل کر کسی اور دنیا میں چلے جائیں۔

اور اگر آپ بھی یہ مانتے ہیں کہ اردو کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، تو پھر ڈیجی نامہ آپ ہی کے لیے ہے۔

یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں۔

یہ اردو کہانی کے لیے ایک نئی جگہ بنانے کی کوشش ہے۔

از کشف ذوالفقار

بانی، ڈیجی نامہ